بنگلورو،28؍مارچ (ایس او نیوز) کرناٹک میں حجاب تنازعہ کے درمیان ایس ایس ایل سی امتحانات پہلے دن پُرامن طور پر منعقد ہوئے۔ بیشتر طلباء نے یونیفارم میں امتحان میں شرکت کی جبکہ چند غیرحاضر رہے اور بعض کو حجاب پہننے پر واپس بھیج دیا گیا۔
کے ایس ٹی وی ہائی اسکول میں امتحانات کے دوران حجاب نکالنے سے انکار کرنے پر محکمہ تعلیم نے انویجلیٹر کو ہی معطل کردیا۔ بتایا گیا ہے کہ امتحان کی ڈیوٹی پر تعینات نور فاطمہ‘ حجاب پہن کر پہنچی تھیں۔جب انہیں حجاب اتارنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے انکار کردیا جس پر انہیں امتحان ہال سے واپس بھیج کر معطل کردیا گیا۔
باگلکوٹ کے الاکل سرکاری اسکول میں ایک باحجاب طالبہ نے حجاب نکالنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے اسے امتحان میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، بعد میں طالبہ نے امتحان کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہبلی سے موصولہ اطلاع کے مطابق ضلع کے ایک امتحانی مرکز میں ایک طالبہ کو حجاب پہن کر امتحان دینے سے منع کردیا گیا۔ جس پر طالبہ نے امتحان کا بائیکاٹ کرتے ہوۓ گھر چلی گئ۔ دھارواڑ سے ملی اطلاع کے مطابق ایک طالبہ حجاب کے ساتھ سول ڈریس میں امتحان دینے آئی تھی، لیکن ممتحن کے سمجھانے کے بعد طالبہ نے حجاب اتار دیا۔
بیلگاوی سے ملی اطلاع کے مطابق بیلگام کے رکن اسمبلی انل بینکے نے چند باحجاب اور برقع پوش طالبات کا امتحانی مرکز میں پھولوں سے استقبال کیا۔ بعد ازاں ان طالبات نے حجاب اور برقعہ نکال کر امتحان میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ ہائی کورٹ سمیت سرکاری سرکیولر میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ جن اسکولوں میں حجاب یونیفارم میں شامل ہے، اُن اسکولوں کی طالبات اپنے یونیفارم کے مطابق حجاب کے ساتھ امتحان لکھ سکتی ہیں، مگر دوسری طرف میڈیا میں وزیر تعلیم کے بیانات سُرخیوں میں شائع ہورہے ہیں کہ انہوں نے زور دیا ہے کہ حجاب کے ساتھ طالبات کو امتحانی پرچہ لکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بیلگام میں دوسروں کا امتحان دینے پہنچے چھ لوگ گرفتار: بیلگاوی سے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیر کو ایس ایس ایل سی امتحانات کے پہلے دن چکوڈی کے آر ڈی کالج امتحانی مرکز میں ایس ایس ایل سی امتحانات کے دوران نقالی کے الزام میں ایک لڑکی سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان چھ افراد کو امتحانی دستے کے ارکان نے طلبہ کے ہال ٹکٹس کی جانچ کے دوران پکڑا۔ وہ ہال میں امتحانات لکھنے کے اصل طلبہ کی جگہ پہنچے تھے۔
اہلکاروں کی جانب سے چھ افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے فوراً بعد انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا جن کی شناخت راہول کلیکیٹر، بھیمشی ہلی کنڈ، کارتک کمبر، سدھو جوگی، مہنتیش ڈولینور اور سویتا ہوسور کے طور پر کی گئی ہے۔